Select your Top Menu from wp menus

مجھے ایک کپ کافی پلادو۔۔۔ پھانسی سے قبل شہید ذوالفقار علی بھٹو کی آخری خواہش جو پوری نہ ہوسکی

12

لاہور(نیو زڈیسک) : گذشتہ روز شہید ذوالفقار علی بھٹو شہید کی چالیس ویں برسی منا ئی گئی۔اس حوالے سے ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نواز شریف کی قانونی ٹیم کا حصہ رہنے والے زبیر خالد سے سپریم کورٹ میں عدالتی کاروائی میں آدھے گھنٹے کے وقفے کے دوران بھٹو ٹرائل پر گفتگو کی گئی۔بھٹو ٹرائل سے متعلق ایک یاد تازہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا اس وقت وہ سکول میں پڑھتے تھے تاہم ان کے والد کے بھٹو کے ساتھ ایک سیاسی تعلق کی وجہ سے گھر میں بھٹو سے متعلق تمام خبریں پہنچ جاتی تھیں۔زبیر خالد کہتے ہیں کہ سب سے زیادہ دل دہلا دینے والی یہ خبر تھی کہ بھٹو نے پھانسی سے قبل ایک کپ کافی کی خواہش کااظہار کیا تھا لیکن عملے نے ان کی یہ خواہش پوری نہیں کی تھی۔اس دن کے بعد سے میں نے کافی پینی شروع کر دی اور آج تک جب بھی کسی مقدمے میں وقفہ ہوتا ہے تو کافی کپ میرے ہاتھ ضرور لگ جاتا ہے۔خیال رہے گذشتہ روز شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کو بھرپور شان و شوکت سے منایا گیا۔شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے سلسلہ میں دعائیہ تقاریب بھی منعقد کی گئیں جس میں ضلع بھر سے پارٹی عہدیدار و جیالے شرکت کی۔ اتنے سالوں بعد بھی بھٹو کا نام پیپلز پارٹی کے کارکنان کیلئے تسکین کا باعث ہے۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ شہید قائد زوالفقار علی بھٹو بے شک آج ہمارے درمیان موجود نہیں البتہ وہ روحانی طور پر ہماری رہنمائی کر رہے ہیں۔چار اپریل اپنے شہید قائد سے عہد وفا کا بھی دن ہے۔ ان کی ملک کیلئے دی جانیوالی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیگی ۔پی پی کارکنان اپنے شہید قائدین کے فکر و فلسفے پر عمل پیرا ہو کر انکے عوامی مشن کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔خیال رہے 18مارچ 1978ء کو ہائیکورٹ نے بھٹو کو پھانسی کا حکم دیا تھا۔6فروری 1979ء کو سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کے حکم کی توثیق کی جس کے بعد 4 اپریل کو بھٹو کو راولپنڈی جیل میں پھانسی پر لٹکایا گیا۔

About The Author

Related posts